چین کی امریکا سےخلائی دوڑ میں بڑی جیت سب سے بڑاخلائی راکٹ مریخ مشن پر روانہ

بیجنگ( ویب ڈیسک )چین نے سیٹلائٹ اور روور روبوٹ پر مشتمل مریخ تحقیقی گاڑی کو خلاء میں بھیج کر امریکا کی خلائی برتری کے دعوی کو چیلنج کر دیا۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شین خوا کے مطابق “تیان وین۔ 1” نامی یہ گاڑی ایک روبوٹک گاڑی ہے جو مریخ کی سطح پر تحقیقات کرے گی۔یہ سیارہ مریخ کے اسرار کو معلوم کرنے کی چین کی پہلی کوشش نہیں ہے ، دراصل تیان وین 1 وہ گاڑی ہے جس کے ذریعے چین امریکا کے ساتھ خلائی جنگوں کی جنگ جیتنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل 2011 میں ، چین نے روس کے ساتھ مریخ مشن شروع کیا تھا جو ناکام ہوگیا تھا اور 9 سال بعد ، وہ اپنے طور پر مریخ کی دوڑ جیتنے کے مقصد پر کام کر رہا ہے۔
جمعرات کے روز چین نے مریخ پر ایک گاڑی بھیج کر دنیا کو یہ بتا دیا کہ وہ خلائی جنگ میں امریکا سے کم نہیں ۔ دوسری جانب ، امریکا ، جو اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور سپر پاور ہونے کے زعم میں ، سمندر کے بعد خلامیں بھی اپنی اجارہ داری بنائے رکھنے کا خواہش مند ہے اس کے لیے یہ بات کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ امریکا 30 جولائی کو اپنی خلائی گاڑی کو مشن پر روانہ کرنا تھا ،لیکن چین نے ریس میں برتری حاصل کرنے کے کچھ دن پہلے ہی مشن بھیجنےکا فیصلہ کرلیا۔
واضح رہے کہ چین نے اپنا سب سے بڑا خلائی راکٹ جنوبی جزیرہ ہینان سے لانچ کیا۔ چینی سائنس دانوں کے مطابق تیان وین -1 سات ماہ میں تقریبا 55 55 ملین کلومیٹر مکمل کرنے کے بعد فروری 2021 میں منزل پر پہنچے گا۔