عازمین حج پر کعبہ کو چھونے، حجر اسود کو بوسہ دینے پر پابندی، آب زم زم اور رمی جمرات کے لئے کنکریاں بھی حکومت دے گی

لاہور( ویب ڈیسک)کورونا وبا نے جہاں دنیا بھر کے دیگر معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں اس سال حج جیسی مقدس عبادت پربھی اس کے اثرات واضح ہیں۔ ہر سال جہاں دنیا بھر سے اہل ایمان کی بڑی تعداد اس سعادت کو حاصل کرتی تھی اور لاکھوں افراد کواللہ کے اس عظمت والے گھر کی زیارت نصیب ہوتی تھی وہیں اس سال محض10 ہزار لوگ ہی حج ادا کر سکیں گے۔ گزشتہ سال کے مقابلے یہ تعداد انتہائی کم ہے کیونکہ پچھلی بار جو رپورٹس سامنے آئی تھیں، ان کے مطابق تقریباً 2.5 لاکھ لوگوں نے حج کی سعادت حاصل کی تھی۔ بہر حال، اس سال جن 10 ہزار لوگوں کو اس عبادت کے لیے منتخب کیا گیا ہے ان میں سے 7 ہزار وہ خوش نصیب افراد ہیں جن کا تعلق سعودی عرب سے نہیں ہے لیکن اس وقت سعودی میں موجود تھے۔ بقیہ 3 ہزار سعودی باشندے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے مومنین کو ہی اس بار حج کی سعادت مل رہی ہے جن کی عمر 20 سے 50 سال کے درمیان ہے۔ قابل ذکر یہ بھی ہے کہ اس مرتبہ صرف ان لوگوں کو حج کی اجازت دی گئی ہے جنھوں نے پہلے اس فرض کی ادائیگی نہ کی ہو۔ان خوش نصیب لوگوں کو حج کی اجازت تو مل گئی، لیکن وہ ان تمام سعادتوں سے محروم رہنے پر مجبور ہیں جو اس سے پہلے عازمین حج کو ملا کرتی تھی۔
اس سال حج کے دوران عازمین نہ ہی کعبہ کا بوسہ لے سکیں گے، نہ حجر اسود کو چوم سکیں گے، اور نہ ہی رمی جمرات کے لیے کنکریاں اٹھا سکیں گے۔ انھیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ آبِ زم زم اپنی مرضی کے مطابق نہیں پی سکیں گے، نہ ہی وہ شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں جمع کرپائیں گے۔ انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ کنکریاں ایک پلاسٹک میں سعودی عرب اتھارٹی کے ذریعہ دستیاب کرائی جائیں گی جو کہ کسی بھی طرح کے جراثیم اور بیکٹیریا سے پاک ہوں گے۔ ان کنکریوں کا استعمال ہی رمی جمرات کے لیے کیا جا سکے گا۔ اسی طرح آب زم زم بھی عازمین حج کو بوتل میں فراہم کیا جائے ۔ایسے حالات پہلے کبھی نہیں پیدا ہوئے اور سبھی دعاء گو ہیں کہ آئندہ کبھی کسی حج کے موقع پر ایسی صورتحال دیکھنے کو نہ ملے۔