مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پھر ہاتھ ہوگیا

کراچی(ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پھر ہاتھ ہوگیا۔۔ بیچارے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی پر پھر اعتبار کر بیٹھے تھے۔۔ایف اے ٹی ایف قوانین پر دونوں جماعتوں نے حکومت کا ہاتھ تھا ما! جے یو آئی آئندہ اعتبار نہ کرنے کا عہد کررہی ہے!

مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پھر ہاتھ ہوگیا! بیچارے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی پر پھر اعتبار کر بیٹھے تھے!

مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پھر ہاتھ ہوگیا!بیچارے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی پر پھر اعتبار کر بیٹھے تھے!ایف اے ٹی ایف قوانین پر دونوں جماعتوں نے حکومت کا ہاتھ تھا ما!جے یو آئی آئندہ اعتبار نہ کرنے کا عہد کررہی ہے!

Posted by Kamran Khan on Thursday, 30 July 2020

کامران خان نے اپنے شو میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پھر ہاتھ ہوگیا، وہ ایک بار پھر ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر اعتبا ر کر بیٹھے تھے، اس پر مولانا فضل الرحمان شدید غصے میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطاء الرحمان اور سنیٹر غفور حیدری نے سینٹ میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو خوب سنائیں کہ آپ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔

مولانا عطاء الرحمان نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں کہا تھا کہ آپ نے ترامیم لاکر اس حکومت کو راستہ دیا ہے، آپ نے ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیا ہے۔آپ نے کبھی اپوزیشن کو یکجا کرنے کی کوشش نہیں کی۔اب ہم اس اپوزیشن کے ساتھ اس فلور پر ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں جبکہ مولانا حیدری نے کہا تھا کہ بڑی اپوزیشن جماعتیں چھوٹی جماعتوں سے پوچھتی نہیں ہیں اور اپنی مرضی کرتی ہیں۔ اگر انکا یہی رویہ رہا تو ہمارا شاید انکے ساتھ چلنا مشکل ہو

کامران خان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسد محمود نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ آپ نے ایک بار پھر ہمارے ساتھ یہی کیا ہے۔ انہیں خوب لتاڑا ، یہ وہی منظر ہے جو لانگ مارچ اور دھرنے پر نظر آیا۔ اب مولانا فضل الرحمان کے ساتھی دو ٹوک الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ اب وہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتے، ان پر اعتبارنہیں کیا جاسکتا۔

کامران خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسد محمود شدید غصے میں تھے، بلاول اور ایازصادق تیزی سے لپکے اور انہیں ہال سے باہر لے گئے اور انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ یہ اپوزیشن کی بہت بڑی سبکی تھی کہ مولانا فضل الرحمان اور انکے ساتھی اپنے ہی اتحادیوں سے گلہ کررہے ہیں۔

کامران خان کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ کیا ہے۔ لانگ مارچ اور دھرنوں کے دوران جب میڈیا پر کچھ اینکرز کہہ رہے تھے کہ حکومت جانیوالی ہے تو ان دونوں بڑی جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کاساتھ چھوڑدیا۔