مسلم لیگ ق کے ہنگامی اجلاس کی اندرونی کہانی

چوہدری شجاعت کی زیرصدارت مسلم لیگ ق کے اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

نجی ٹی وی چینل کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت سے اتحاد اور سیاسی صورت حال پر غور کیا گیا اور نیب کی چوہدری برادران کے خلاف کاروائیوں اور حکومتی روئیے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں یہ ایشو اٹھایا گیا کہ حکومت سے اتحاد تو ہے لیکن حکومت ہم سے مشاورت نہیں کرتی اور جب حکومت کوئی اہم قدم اٹھائے نہ ہم سے رابطہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی ہمیں اعتماد میں لیا جاتا ہے۔

مسلم لیگ ق کے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا بھرپور ساتھ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ کہا گیا اگر عثمان بزدار کو تبدیل کیا گیا تو پرویز الٰہی انکے متبادل ہونے چاہئیں جبکہ آئندہ اجلاس میں ایم پی ایز کو بھی مدعو کر کے معاملات سامنے رکھےجائیں۔

ق لیگ کے ہنگامی اجلاس میں چودھری پرویز الہیٰ، طارق بشیر چیمہ، سالک حسین، شافع حسین، مونس الہٰی اور حسین الہٰی نے بھی شرکت کی۔مونس الٰہی اور حسین الٰہی نے حکومتی تجاویز سے متعلق اہم تجاویز دیں۔

نجی ٹی وی چینل کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ق حتمی فیصلے ق لیگ کے پنجاب اسمبلی کے ایم پی ایز کی شرکت اور انکی تجاویز لیکر کرے گی۔