ن لیگ کے کارکن تشدد میں ملوث ، سپریم کورٹ نے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی الیکشن روک دیا

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ آف پاکستان نے این اے 75ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی الیکشن روکنے کا حکم دے دیا۔ مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے تشدد شروع کیا، جسٹس عمرا عطا بندیال کے ریمارکس۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات کے کیس کی سماعت ہوئی۔ مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت میں ضلع ڈسکہ کا مکمل نقشہ پیش کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکہ شہر کے 76 میں سے 34 پولنگ اسٹیشنز سے شکایات آئیں، 20 پریزائیڈنگ افسر بھی غائب ہوئے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ10 پولنگ اسٹیشنز پرپولنگ کافی دیرمعطل رہی، سوال یہ ہے کہ پولنگ کے دن کون اور کیوں یہ مسائل پیدا کرتا رہا؟  کیا ایک امیدوار طاقتور تھا اس لیے دوسرے نے یہ حرکتیں کروائیں؟ انہوں نے کہا کہ  رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے کارکنان پرتشدد واقعات میں ملوث رہے، آپ کو ثابت کرنا ہے کہ 23 پولنگ اسٹیشن کی شکایت پر پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کیوں ضروری ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حلقے کے ایک تہائی پولنگ اسٹیشنز کی شکایات موصول ہوئیں، پریزائڈنگ افسران پولیس کے ساتھ معمول کے مطابق نکلے، لیکن ان افسران کی واپسی غیر معمولی تھی، وہ اکھٹے آئے اور ڈرے ہوئے تھے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا پولنگ کا فیصلہ برقرار ہے، فی الحال 10 اپریل کا فیصلہ ملتوی کررہے ہیں۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published.