وزیراعظم صاحب! مہنگائی کنٹرول نہیں کر سکتے تو ہمیں گھبرانے کی اجازت دے دیں، خاتون کا کائیو کال پر سوال

ویب ڈیسک: عوام نے وزیراعظم پاکستان سے مہنگائی کم نہ ہونے کی صورت میں گھبرانے کی اجازت مانگ لی۔ رعوام سے براہ راست گفتگو کے دوران اسلام آباد کی عنبرین نے شکوہ کیا کہ گر مہنگائی کنٹرول نہیں کرسکتے تو ہمیں گھبرانے کی اجازت ہی دی دیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون پرعوام سے براہ راست گفتگو کی اور عوامی مسائل سنے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کروائی، عوام نے وزیراعظم سے سوالات کئے، اس دوران اسلام آباد کی عنبرین نے وزیراعظم کو مشکل میں ڈال دیا، اور وزیراعظم کے مشہور الفاظ آپ نے گھبرانا نہیں ہے کا استعمال کرتے ہوئے مہنگائی کا شکوہ کیا، خاتون نے کہا کہ اب تو ڈالر کی قدر میں کمی ہورہی اور روپیہ مستحکم ہورہاہے لیکن مہنگائی کم نہیں ہورہی، اگر مہنگائی کنٹرول نہیں کرسکتے تو ہمیں گھبرانے کی اجازت ہی دی دیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کرپشن ایسی کینسر ہے جو صرف پاکستان نہیں ہر غریب ملک میں پھیلا ہوا ہے، حکمرانوں کی کرپشن ملکوں کو مقروض کرتی ہے، کرپشن امیرملک کوبھی تباہ کردیتی ہے، امیر ممالک بھی کرپشن کی وجہ سے معاشی طور پر تباہ ہوجاتے ہیں، غریب ملکوں سے ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر  چوری ہوتے ہیں، ساری قوم مل کر کرپشن کا مقابلہ  کرتی ہے،عمران خان اکیلے نہیں لڑسکتا۔ نواز شریف کو کہہ رہے تھے شیورٹی بانڈ دو  لیکن عدلیہ نے باہر بھیج دیا۔قانون بنانے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی، ہم سب نے اس کے لئے کام کرنا ہے۔ عدالتیں ساتھ نہیں دیں گی تو کرپشن کے خلاف کیسے لڑ سکتے ہیں؟

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں وہی لوگ گھر بنا سکتے ہیں جن کے پاس پیسہ ہے، پاکستان میں صفر اعشاریہ 2 فیصد ہاوَسنگ فنانسنگ ہے، پہلی دفعہ حکومت نے تعمیراتی شعبے پر بھرپور توجہ دی ہے، ایف بی آر سے کنسٹرکشن شعبے کے لئے ٹیکس بھی کم کروائے ہیں۔ بینکوں  کےصدورسےبات کی ہےکہ ہاوَسنگ فنانسنگ کوآسان بنائیں۔

عمران خان نے کہا کہ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت  آرڈننس لائے ہیں، فیملی سسٹم کو بچانے کے لئے دین نے ہمیں پردے کا درس دیا، اسلام کے پردے کے نظریے کے پیچھے فیملی سسٹم بچانا اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جب آپ معاشرے میں فحاشی پھیلائیں  گے تو جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوگا، یورپ میں  اب فیملی سسٹم تباہ ہوچکا ہے، ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے میں  نے صدرایردوان سے بات  کی اور ترک ڈرامے کو یہاں لایا۔