کابینہ میں بیٹھ کر بھی بے بس ہوں، ہماری بات نہیں سنی جاتی، غلام سرور خان کا دکھڑا

ویب ڈیسک: وفاقی وزراٴ اپنی ہی حکومت میں بے بسی کی صورت بن گئے، وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور کہتے ہیں ہم کابینہ میں بھی بیٹھ کر بے بس ہیں، کوئی ہماری سنتا ہی نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت زرعی مصنوعات پر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان اپنی حکومت کے خلاف پھٹ پڑے، انہوں نے کہا کہ میں کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں، کابینہ میں بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے زرعی شعبے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اگر پوچھا جائے کہ گندم کہاں سے منگوائی جا رہی ہے تو ہمیں کوئی جواب ہی نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا کہ باہرمنگوائی جانے والی گندم کی قیمت 2400روپے فی من ہے لیکن مقامی کسان کو 1800 روپے فی من قیمت دی جاتی ہے۔ ہم اپنے کسان کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ڈی اے پی 28 سو روپے تھی اس سال پانچ ہزار ہےخدا کا خوف کرو، میں کابینہ میں ہوں مگر دکھ ہوتا ہے وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی۔